دینی تعلیمی بورڈ، جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ عاملہ کا اہم اجلاس؛ ارتداد کے بڑھتے ہوئے خطرات اور مکاتب کی فعالیت پر زور
نئی دہلی: ۳ / جولائی ۲۰۲۶ء : دینی تعلیمی بورڈ، جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ عاملہ کا اہم اجلاس مدنی ہال، نئی دہلی میں منعقد ہوا جس کی صدارت صدر دینی تعلیمی بورڈ و مہتمم دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم صاحب نعمانی دامت برکاتہم نے فرمائی۔
اجلاس کی کارروائی، ناظمِ عمومی دینی تعلیمی بورڈ حضرت مولانا مفتی سلمان صاحب منصور پوری دامت برکاتہم کی زیرِ نگرانی انجام پائی، اس نشست میں صدر جمعیت علماء ہند حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی دامت برکاتہم اور مفتی سید عفان صاحب منصورپوری دامت برکاتہم کی سرپرستی شاملِ حال رہی۔ اجلاس میں ملک بھر کے صوبائی ذمہ داران اور اراکینِ عاملہ نے شرکت کی اور ملی تعلیمی صورتحال پر تفصیلی غور و فکر کی۔ مجلس کا آغاز مفتی عفان صاحب کی تلاوت سے ہوا ، اس کے بعد سابقہ کارگزاری سنائی گئی ، جس پر اکابرین نے اپنے مشوروں سے نوازا۔
پھر ترتیب وار مختلف صوبوں کے تقاضے پیش کئے گئے، ہر ہر تقاضے پر مکمل غور خوص اور بحث کے بعد تقاضوں کی تکمیل کی ترتیب عمل میں آئی ، ساتھ ہی دینی تعلیمی بورڈ کے نظام کو مزید بہتر بنانے اور اسے پورے ملک میں سو فیصد قائم کرنے کے متعلق غور کیا گیا ، ہر صوبے کے ذمہ دار سے انفرادی طور پر صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور درپیش مسائل سنے گئے، صوبائی صدور کی جانب سے معاونین اور درپیش مسائل کے حل کے لیے لائحۂ عمل کا مطالبہ سامنے آیا، جس کے حل کے لیے حضرت صدر محترم نے سہ رکنی کمیٹی تشکیل دی ، جو ان مسائل کو حل کرے گی۔
مجلس کے دوران مختلف موضوعات مثلاً معاونین کا تقرر ، معلمین و معلمات کی ٹریننگ، نئے افراد کا انتخاب ، جمعیت بک ڈپو کی جملہ کتب کی فراہمی ، مختلف زبانوں میں نصاب کا ترجمہ، اردو زبان سکھانے کی غرض سے اسلامی تعلیمات کا انتخاب، الجمعیۃ بک ڈپو کی شاخ یا اشتراکی کتب خانے کا نظام ، جیسے اہم مسائل زیر بحث آئے۔ علاوہ ازیں مرکزی ذمہ داران کی جانب سے کچھ نئی تجاویز مثلاً اسکول ٹیوشن کا نظام ، معلمات کی تدریب اور بچیوں کے شرعی حدود میں رہ کر کھیلوں میں حصہ لینے جیسے پریزنٹیشن پیش کیے گئے، جن میں سے اکابرین نے بعض کی منظوری دی ؛ جب کہ بعض تجاویز کی منظوری غور و فکر کےلیے موقوف رکھی۔
صدر محترم مولانا محمود مدنی صاحب کی فکر انگیز تقریر
دوران مجلس ہندوستان کے حالات اور بڑھتے ہوۓ ارتداد کے پیش نظر حضرت صدر محترم دامت برکاتہم نے مکاتب کی اہمیت و افادیت اور ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ اس تعلق سے ہمیں کس قدر سخت کام کرنے کی ضرورت ہے ، مزید فرمایا کہ ملت اسلامیہ ہر جانب سے غیروں کی سازش اور باطل طاقتوں کے شکنجے میں ہے ، اور صورتحال یہ ہے کہ حاجت روائی کے لیے دور تک کوئی نظر نہیں آتا ، ایسے نازک حالات میں اگر ہم نے ذرا سی بھی غفلت برتی تو اس کا نقصان ہماری نسلوں تک جا سکتا ہے ، اگر ہم دوسروں کے ایمان کے بچانے کی فکر میں لگیں گے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ ہمارا خود اپنا ایمان محفوظ رہے گا ، بصورت دیگر ہم خود اپنے ایمان کی ضمانت نہیں لے سکیں گے۔ صدر محترم نے کام کی اہمیت اور حساسیت پر زور دیتے ہوئے جملہ حاضرین مجلس کو ہر جہت سے ہرممکن کوشش کرتے رہنے اور عزائم کو عملی جامہ پہنانے کے تعلق سے پرزور اپیل کی۔
حضرت مہتمم صاحب نے جملہ اراکین عاملہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ حضرات کو مختلف صوبوں سے یہاں جمع کرنے کا مقصد یہ ہے کہ بورڈ ایک شعبہ ہے ، اگر ہمیں ایک دوسرے کا تعاون حاصل ہوگا تو کام آگے بڑھے گا ، ایک صوبے کی قوت عملی دوسرے صوبے کےلیے نمونہ ہوگی ، اس لیے ہم باہمی تعاون کے ساتھ اس کام کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں۔ الحمدللہ یہ مجلس نہایت کام یابی ، اہم نکات کی منظوری اور خوش کن عزائم کے ساتھ حضرت مہتمم صاحب کی دعا پر اختتام پذیر ہوئی۔