دارہ مباحث فقہیہ جمعیۃ علماء ہند کے اکیسویں فقہی اجتماع میں
*جدید طبی اور معاشی مسائل پر زورداربحث ، دو سو سے زائد مقالات کا خلاصہ پیش ہوا*
نئی دہلی، 24 ستمبر: ادارۃ المباحث الفقہیہ،جمعیۃ علماء ہند کے زیر اہتمام جاری اکیسویں فقہی اجتماع کی دوسری اور تیسری نشستوں میں جدید طب، میڈیکل، اعانت علی المعصیت اور جدید معاشی معاملات سے متعلق اہم اور پیچیدہ فقہی مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اور فقہائے کرام نے ان جدید مسائل پر زور دار بحث کی۔ ملک کے مختلف علمی مراکز سے تعلق رکھنے والے ممتاز مفتیانِ کرام نے مقالات، دلائل اور فقہی آراء کی روشنی میں ان مسائل کا جائزہ لیا اور مزید تحقیق و تخریج کے لیے مسودہ ساز کمیٹیاں تشکیل دی گئیں جو کل صبح ڈرافٹ پیش کریں گی ۔ مسودہ ساز کمیٹیوں کی میٹنگ محمود یہ لائبریری میں جاری ہے جن میں جمعیۃ علماء ہند کےصدر مولانا محمود اسعدمدنی بھی شریک ہیں ۔
ازیں قبل اجتماع کی دوسری نشست کی صدارت صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کی۔ نشست میں اسقاط حمل، نفخِ روح، جنین کے پیدائشی نقائص، ماں کی جان کو لاحق خطرات، لاعلاج مریضوں کے علاج، وینٹی لیٹر ہٹانے، رحم نکالنے، مرد و خواتین ڈاکٹروں کے ذریعے معائنہ و علاج، الٹراساؤنڈ اور ستر کے احکام، علاج کے اخراجات اور مریض کی جائیداد سے متعلق متعدد اہم مسائل زیر بحث آئے۔اس موقع پر حضرت مولانا رحمت اللہ میر قاسمی صدر مجلس قائمہ جمعیۃ علماء ہند اور حضرت مفتی محمدراشد اعظمی، نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند نے اہم خطاب کیا ۔
مذکورہ موضوع پر 163 مفتیانِ کرام نے مقالات تحریر کیے۔حضرت مفتی عبداللہ معروفی، استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند نے مقالات کی تلخیص پیش کرتے ہوئے مختلف فقہی آراء اور ان کے دلائل کا خلاصہ بیان کیا، جس کے بعد شرکائے اجتماع کے درمیان تفصیلی علمی مناقشہ ہوا۔مزید تحقیق، تخریج اور تمام متعلقہ فقہی پہلوؤں کے جائزے کے لیے مسودہ ساز کمیٹی تشکیل دی گئی، جس کے کنوینر مفتی اسد اللہ، نائب مفتی دارالعلوم دیوبند مقرر ہوئے۔ کمیٹی کے ارکان میں مفتی محمد اشرف عباس قاسمی، مفتی محمد عثمان بستوی، مفتی اختر امام عادل، مفتی رشید الدین معروفی، مفتی نذیر احمد کشمیری، مفتی محمد ثاقب، مفتی محمد خالد نیموی، مفتی محمد جنید اور مفتی حبان بیگ شامل ہیں۔
تیسری نشست 24 ستمبر 2026 کو صبح 8 بجے مدنی ہال، مرکزی دفتر جمعیۃ علماء ہند، نئی دہلی میں منعقد ہوئی۔ نشست کی صدارت حضرت مفتی زین الاسلام قاسمی الہ آبادی، صدر مفتی دارالعلوم دیوبندنے کی۔اس نشست کا مرکزی موضوع ’’اعانت علی المعصیت اور جدید معاشی معاملات‘‘ تھا۔ جدید ٹیکنالوجی، بینکاری، انشورنس، مالیاتی خدمات، آن لائن تجارت اور روزگار کے بدلتے ہوئے طریقوں کے تناظر میں ایسے متعدد مسائل زیر بحث آئے جن میں جائز اور ناجائز معاملات کے باہمی اختلاط کی صورت پیدا ہوتی ہے۔اس ضمن میں یہ مسئلہ زیر غور آیا کہ ایسی ویب سائٹ یا سافٹ ویئر تیار کرنے کا کیا حکم ہے جس کا استعمال جائز کاموں کے لیے بھی ممکن ہو، لیکن خریدار کمپنی اسے سودی معاملات کے لیے استعمال کرتی ہو، اور اس صورت کو اعانت علی المعصیت کی کس نوعیت میں شمار کیا جائے گا۔ اسی طرح ایسی کمپنیوں میں ملازمت، جو مالی ڈیٹا اور رسک رپورٹس تیار کرتی ہیں اور جن کا استعمال سودی قرضوں، انشورنس، کریڈٹ کارڈ اور دیگر جائز و ناجائز مالی معاملات میں ہوتا ہے، نیز کسٹمر سروس پوائنٹ (CSP) کے ذریعے بینک کی خدمات انجام دینے کے شرعی حکم پر غور کیا گیا۔Blinkit اور Zomato جیسے پلیٹ فارموں کے ذریعے شراب، غیر مذبوح گوشت اور دیگر ناجائز اشیاء کی ڈیلیوری، ٹرک یا آٹو کے ذریعے شراب اور مورتیوں کی ترسیل، نیز راکھی، کڑا، منگل سوتر، کرسمس ٹری اور دیگر غیر مسلم مذہبی شعائر کی خرید و فروخت کے شرعی احکام بھی زیر بحث آئے ۔اس موضوع پر 101 مقالات تحریر کیے گئے۔ مقالات کی تلخیص مفتی محمد مصعب قاسمی اور مفتی اسد اللہ نائب مفتی دارالعلوم دیوبندنے تیار کی اور مفتی اسد اللہ اور مفتی عبدالرزاق امروہوی نے مشترکہ طور پر پیش کیا۔اور اس کی مسودہ ساز کمیٹی تشکیل دی گئی ۔
اجتماع میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی، ناظم عمومی حضرت مولانا حکیم الدین قاسمی، حضرت مولانا نعمت اللہ اعظمی، حضرت مفتی محمد راشد اعظمی، حضرت مولانا رحمت اللہ میر قاسمی، حضرت مفتی سید محمد سلمان منصورپوری، حضرت مولانا عتیق احمد قاسمی بستوی، حضرت مفتی محمد زید مظاہری اور ملک کے مختلف اہم مدارس و علمی مراکز سے تعلق رکھنے والے فقہ و فتاویٰ کے ماہر علماء و مفتیانِ کرام نے شرکت کی۔دوسری نشست کا آغاز مفتی سید محمد عفان منصورپوری کی تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا،جبکہ قاری احمد عبداللہ قاسمی نے نعت پیش کی۔ نظامت کے فرائض مفتی عبدالرزاق قاسمی امروہوی اور مفتی سید محمد عفان منصورپوری نے انجام دیے۔ ادارۃ المباحث الفقہیہ کے کنوینر مولانا عبدالملک رسول پوری نے یہ بتایا کہ کل اجتماع میں فیصلے کے بعد حتمی تجویز منظور ہوگی۔
مدیر محترم اس پر یس ریلیز کو شائع فرما کر شکر گزار کریں
*محمد عظیم اللہ صدیقی*
*ناظم نشرو اشاعت جمعیۃ علماء ہند*