The 21st Fiqh Conference of the Al-Mabahirul Fiqhiya, Jamiat Ulama-i-Hind, Begins

ادارۃ المباحث الفقہیہ جمعیۃ علماء ہند کے اکیسویں فقہی اجتماع کا آغاز

  حضرت مولانا ارشد مدنی ،حضرت مولانا محمود اسعد مدنی ، حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اور حضرت مولانا نعمت اللہ اعظمی سمیت کئی اہم شخصیات کا خطاب ۔  افتتاحی خطاب میں صدرجمعیۃعلماء ہندحضر ت مولانا محمود مدنی نے کہا کہ فقہی اداروں کو علمی مراکز اور تحقیقی نظام قائم کرنے کی ضرورت 

نئی دہلی، 23 ستمبر 2026، بدھ: ادارۃ المباحث الفقہیہ جمعیۃ علماء ہند کے زیر اہتمام سہ روزہ اکیسویں فقہی اجتماع کا آغاز بدھ کے روز مدنی ہال، دفتر جمعیۃ علماء ہند، نئی دہلی میں بعد نماز عصر ہوا۔ افتتاحی نشست کی صدارت دارالعلوم دیوبند کے استاذِ حدیث حضرت مولانا نعمت اللہ اعظمی نے کی، جب کہ ملک کے مختلف صوبوں سے فقہ وفتاویٰ سے وابستہ تین سو مفتیانِ کرام، علماء اور ماہرین نے اجتماع میں شرکت کی جو اپنا مقالہ پیش کریں گے ۔اپنے کلمات افتتاحیہ میں اکابر علمائے کرام و مفتیان عظام کا استقبال کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے صدر حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی نے کہا کہ ہم ایسے دور میں شریعت کے اہم مسائل پر غور وفکر کے لیے جمع ہوئے ہیں جب انسانی زندگی کے حالات بہت تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں اور ہر نئی تبدیلی اپنے ساتھ نئے سوالات بھی لے کر آ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ شریعت کامل ہے اور اس کے اصول جامع ہیں، تاہم واقعات اور حالات کی صورتیں بدلتی رہتی ہیں۔ ایک ہی شرعی اصول مختلف حالات میں مختلف صورتوں پر منطبق ہو سکتا ہے۔ اس لیے کسی نئے مسئلے پر حکم لگانے سے پہلے اس کی حقیقت اور نوعیت کو درست طور پر سمجھنا ضروری ہے۔ انہوں نے اسے ایک بنیادی اصول قرار دیتے ہوئے کہا کہ تصورِ مسئلہ درست ہوگا تو حکم کا انطباق بھی درست ہوگا۔
 
مولانا محمود مدنی نے کہا کہ آج کے پیچیدہ مسائل کو ایک فرد کے لیے ان کے تمام پہلوؤں کے ساتھ سمجھنا آسان نہیں۔ ایک مسئلہ بیک وقت فقہ، طب، قانون، معاشیات، ٹیکنالوجی، سماجیات اور دیگر علوم سے متعلق ہو سکتا ہے۔ اس لیے فقہی اداروں کو ایسے علمی مراکز اور تحقیقی نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے جہاں فقہاء اور مختلف علوم کے ماہرین باہم تعاون کریں۔انہوں نے کہا کہ طبی مسائل میں ماہر ڈاکٹروں سے طبی حقیقت معلوم کی جائے، اسی طرح مالیاتی معاملات میں ماہرینِ معاشیات سے متعلقہ نظام کو سمجھا جائے، ٹیکنالوجی کے مسائل میں ماہرین سے اس کی ساخت اور عملی صورت حال معلوم کی جائے اور پھر ان معلومات کی روشنی میں شرعی اصولوں کا درست انطباق کیا جائے۔جمعیۃ علماء ہند کے صدر نے فتویٰ نویسی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ لوگ اپنے دین، زندگی، کاروبار، خاندان اور بعض اوقات اپنی جان سے متعلق فیصلوں کے لیے علماء اور مفتیانِ کرام سے رجوع کرتے ہیں، اس لیے فتویٰ کے معاملے میں جلد بازی کی کوئی گنجائش نہیں۔ فتویٰ وقتی جذبات کے بجائے علم، تقویٰ، تحقیق اور حکمت کی بنیاد پر مدلل ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جہاں ضرورت ہو وہاں فتویٰ صرف جائز یا ناجائز بتا کر ختم نہیں ہونا چاہیے، بلکہ عوام کو اصولِ شرع کی روشنی میں جائز، محفوظ اور عملی راستہ بھی دکھانا چاہیے۔ ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ شریعت لوگوں کے لیے محض احکام کا مجموعہ نہ رہے بلکہ ان کی عملی زندگی میں ہدایت، توازن، خیر اور اطمینان کا ذریعہ بنے۔
 
امیر الہندحضرت مولانا سید محمد ارشد مدنی صدر جمعیۃعلماء ہند و صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند نے اپنے خطاب میں کہا کہ فقہ کی بنیاد کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ ﷺ پر ہے، اس لیے غیر منصوص مسائل کو منصوص مسائل سے مستنبط اور مستخرج کرنا فقہ کا نہایت اہم کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے حالات میں پیش آنے والے نئے مسائل کے شرعی حل کے لیے قرآن وسنت کے اصولوں کی روشنی میں غور وفکر اور صحیح استنباط ضروری ہےاور یہی کام فقہی اجتماعات میں انجام دیا جاتا ہے۔
 
صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے اپنے تاثراتی خطاب میں اعانت علی المعاصی کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اہم اور وسیع موضوع ہے اور اس کی بعض صورتیں ممانعت اور معاونتِ معصیت کے مختلف درجات سے متعلق ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شریعت کا ایک حصہ قطعی اور غیر متبدل ہے، جبکہ بعض جدید پیش آمدہ مسائل ایسے ہیں جن کے حل کے لیے شریعت کے اصولوں کی روشنی میں غور وفکر اور دلائل کی بنیاد پر استنباط کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جدید مسائل میں ایسے شرعی حل پیش کیے جانے چاہئیں جو امت کے لیے قابلِ عمل ہوں۔
 
صدرِ مجلس حضرت مولانا نعمت اللہ اعظمی، استاذِ حدیث دارالعلوم دیوبند نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ فقہی مباحث اور جدید مسائل کے شرعی احکام کا اخذ کرنے کا عمل عہدِ نبوی ﷺ سے جاری ہے۔ امت کے علمی سفر میں نئے پیش آمدہ مسائل پر غور وفکر اور ان کے شرعی حل کی تلاش ایک مسلسل علمی روایت رہی ہے۔ فقہی اجتماعات اسی علمی روایت کا تسلسل ہیں جو قرنِ اول سے آج تک جاری ہے۔ ازیں قبل افتتاحی نشست کا آغاز قاری محمد فاروق صاحب کی تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا، جبکہ جناب قاری احمد عبداللہ قاسمی رسول پوری نے نعتیہ کلام پیش کیا۔
 
اجتماع میں مذکورہ شخصیات کے علاوہ دارالعلوم دیوبند کی مجلسِ شوریٰ کے رکن حضرت مولانا رحمت اللہ میر قاسمی، حضرت مولانا محمد سلمان بجنوری نائب صدر جمعیۃعلماء ہند و استاذ دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا محمد حکیم الدین قاسمی ناظم عمومی جمعیۃعلماء ہند، حضرت مفتی زین الاسلام الہ آبادی صدر مفتی دارالعلوم دیوبند ، حضرت مولانا فضل الرحیم مجددی جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ،حضرت مولانا عتیق احمد بستوی استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ ، نائب امیر الہند حضرت مفتی محمد سلمان منصورپوری استاذ دارالعلوم دیوبند، حضرت مفتی محمد راشد اعظمی نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند ،حضرت مفتی محمد عفان منصورپوری صدر جمعیۃ علماء یوپی ، حضرت مفتی عبداللہ معروفی استاذِ حدیث دارالعلوم دیوبند سمیت مدرسہ قاسمیہ شاہی مرادآباد، مظاہر علوم سہارن پور سمیت ملک کے مختلف صوبوں سے تعلق رکھنے والے متعدد اربابِ فقہ وفتاویٰ شریک ہیں۔
 
ادارۃ المباحث الفقہیہ کے کنوینر مولانا عبدالملک رسول پوری نے بتایا اس اکیسویں فقہی اجتماع میں ’’طب اور بعض جدید فقہی مسائل‘‘ اور ’’اعانت علی المعاصی اور جدید معاشی معاملات‘‘ کے موضوعات پر تفصیلی علمی بحث ومباحثہ ہوگا۔ اجتماع کے دوران مختلف جدید مسائل کے شرعی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا اور ماہرین و فقہاء کی آراء کی روشنی میں ان کے حل پر غور کیا جائے گا۔
 
مدیر محترم اس پر یس ریلیز کو شائع فرما کر شکر گزار کریں
               محمد عظیم اللہ صدیقی
ناظم نشرو اشاعت جمعیۃ علماء ہند
Scroll to Top