Important Speech

کارکنانِ جدید! علماء، مبلغین، تربیتی ورکشاپ کے لیے خطاب

گاؤں گاؤں، محلہ محلہ ملت کی تعمیرِ نو

تقریر حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب دامت برکاتہم

صدر جمعیۃ علماء ہند

محترم بزرگو و دوستو!

  1. 1. بنیادی اصول : جذبہ ہی ہر کام کی روح اور اس کی اصل جان ہے۔ کاموں کی کامیابی اور بقا کا دار ومدار وسائل سے زیادہ جذبے ، اخلاص اور احساس ذمہ داری پر ہوتا ہے۔ جہاں سچا جذبہ موجود ہو ، وہاں راستے خود بخود ہموار ہو جاتے ہیں، اور جہاں جذبہ مفقود ہو ، وہاں وسائل کی فراوانی بھی کوئی نتیجہ پیدا نہیں کر سکتی۔

ہم آپ کے سامنے کوئی بڑا مطالبہ یا بوجھ نہیں رکھ رہے، بلکہ ایک در دل لے کر حاضر ہوئے ہیں۔ ہمارے آس پاس ایسے بے شمار بچے اور بچیاں موجود ہیں جو دینی تعلیم و تربیت سے محروم ہیں اور ارتداد کے نرغے میں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم انہیں دین سے دوری، بے راہ روی اور ارتداد کے خطرات سے کیسے محفوظ رکھیں؟

اسی درد اور احساس ذمہ داری کے تحت ہم آپ کی خدمت میں دست تعاون دراز کرنے آئے ہیں، 7 تاکہ مل جل کر اپنی نئی نسل کے ایمان، دینی شناخت اور مستقبل کی حفاظت کا فریضہ انجام دے ف سکیں۔

 

  1. میدان عمل : ہر محلے اور ہر گاؤں کی اصلاح کا اصل ذمہ دار وہی شخص بن سکتا ہے جو اس بستی میں رہتا ہو ، اس کے حالات سے واقف ہو اور اس کے دکھ درد کو اپنا سمجھتا ہو۔ جس طرحبکریوں اور بھیٹروں کا چرواہا و ہی بن سکتا ہے جو ریوڑ کے ساتھ رہتا ہو ، اسی طرح معاشرے کی رہنمائی اور اصلاح کا فریضہ بھی مقامی افراد ہی بہتر طور پر انجام دے سکتے ہیں۔

اس لیے ضروری ہے کہ اصلاح معاشرہ، مکاتب دینیہ، دینی و عصری تعلیم ، جماعت واجتماعیت کے بلا فروغ ، نشہ سے پاک معاشرہ اور وقت کی پابندی جیسے اہم مقاصد کے لیے ہر گاؤں اور ہر محلے میں م کم از کم ایک مخلص سپاری اور ایسے سپاہیوں کی ایک منظم جماعت ، یعنی مقامی جمعیتہ، قائم کی جائے۔ ۔

 

  1. بے عملی کا انجام اور وقت کا تقاضا : بے عملی پر اللہ تعالی گھوڑوں کی ٹاپوں بلکہ گدھوں سے بھی روند و ادیتے ہیں۔ آج ہمیں گدھے ہی روند رہے ہیں، جنہیں نہ ہماری فکر اس ہے نہ اپنی۔ یہ غلامی کی انتہا ہے۔ اب زندگی اور موت کی لڑائی ہے۔ اس سے مراد مسلح جدوجہد کے نہیں، بلکہ ہر طرح کی قربانی کے لئے تیار ہونا ہے۔ یادر کھیں ، کمزور لوگ لڑائی نہیں لڑ سکتے ۔ آپ ر کی اصل طاقت آپ کی اجتماعیت ہے۔ دہلی ہدایت دے سکتا ہے، پٹنہ مشورہ دے سکتا ہے، لیکن کام تو آپ کو ہی کرنا ہو گا۔ نیت درست کریں، عزم پختہ کریں اور منصوبہ بندی سے کام کریں۔

 

  1.  سبق عمل اور پیغام اقدام : اگر انسان عزم وارادہ کے ساتھ کام شروع کر دے تو اپنے ہی ضلع میں بیٹھ کر پورے ملک میں تبدیلی کی بنیادر کھی جاسکتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑے انقلابات اور عظیم تحریکیں چند مخلص افراد کے محدود دائروں سے ہی شروع ہوئی ہیں۔ یہ در کشاپ در اصل اسی احساس ، ای بیداری اور ای عملی تبدیلی کے لیے منعقد کی گئی ہے۔ صرف -قائد ملت، قائد جمعیت یا صدارت کے عہدے کافی نہیں ہوتے۔ جب تک جمعیت کا کام گاؤں گاؤں ، محلہ محلہ اور گھر گھر تک نہیں پہنچے گا، اور مقامی سطح پر افراد ذمہ داری قبول نہیں کریں گے ، اس وقت تک مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکتے۔

 

  1. 5. خود شناسی اور شخصیت کی تعمیر : اپنے آپ کو پہچانے: آپ کہاں کھڑے ہیں اور کیا کر سکتے ہیں۔ ہم جذباتی باتوں سے خوش ہو جاتے ہیں، لیکن لانگ ٹرم پلانگ ہمیں بھاری لگتی ہے۔ بڑا اللہ بناتا ہے۔ حضرت عمر فاروق دعافرماتے تھے: “اللہ ! مجھے اپنی نظر میں چھوٹا اور لوگوں کی نظر میں بڑا بنادے “۔ ہم نے خود کو محدود کر لیا ہے۔ جن پر انبیاء کے طریقے کی و ذمہ داری ہے ، وہی بے عمل ہو گئے اور امت نقصان میں چلی گئی۔ عمل کی ذمہ داری آپ کی اپنی

 

6۔ گھر سے شروعات : ملت کا قائدہ اس میں نہیں ہے کہ ہماری زندگی آرام سے گزر جائے۔ علماء کے ساتھ غیر علماء کو بھی جوڑیے۔ ہر گاؤں اور محلے میں ساتھی تیار کیجئے۔ صبح سویرے پیدل چلیں، ورزش کی پابندی کریں۔ نرم مزاجی اختیار کریں، خاص طور پر اہل خانہ کے ساتھ ، کیونکہ ہماری نسل انہی کی گود میں پل رہی ہے۔

 

7 . وقت کا تعین اور ڈیٹا کی بنیاد پر کام : ہفتے میں کم از کم ایک دن جمعیت کو ضرور دیں۔ چھوٹا بن جائیں، اللہ بڑا بنادے گا۔ ساری ترتیب کا خلاصہ ” آپ کا جذبہ ” ہے۔ اگر جذ بہ جاگ گیا تو ان شاء اللہ چھ مہینے میں تبدیلی نظر آئے گی۔ اس کے لئے ہر ضلع میں یہ مکمل ڈیٹا نقشے کی شکل میں موجود ہو : کتنے بلاک، پنچایت ، وارڈ ، گاؤں، مساجد، مدارس، اسکول، یتیم، بیوائیں، اور کتنے بچے پڑھ رہے ہیں یا نہیں۔ یہ کام چھ ماہ میں مکمل کر لیجئے۔

 

  1. مدارس کا معیار بقاء کی شرط مدارس کا نظام درست کیجئے : حساب و کتاب، زمین کے کاغذات، مناسب رہائش ، معیاری تعلیم و تربیت۔ بغیر شور کے فوراً یہ کام کریں۔ بلڈ نگ ، فائر ، NOC دو گیٹ ، روزینے، عمدہ مطبخ ، صاف ستھرا بیت الخلاء اور نظم و نسق کو معیاری بنائیں۔ جو مدرسہ معیار پر پورا نہ اترے،اسے دوسرے کام پر لگادیں۔ اگر یہ کر لیا تو کوئی مدرسہ اکیلا نہیں رہے گا اور ان شاء اللہ مدارس کی بقاء کے لئے ہر ممکن لڑائی لڑی جائے گی۔
  2.  
  3. شخصیت پر جماعت کو مقدم رکھیں : اجتماعیت، شفافیت ، معیاری تعلیم اور عمدہ تربیت لازم ہے۔ ادارے میں انفرادیت کے بجائے شوری اور اجتماعیت لائیں۔ شخصیت کو کبھی مقدم نہ رکھیں ، ہمیشہ جماعت کو ترجیح دیں۔ شخصیت آتی جاتی رہتی ہے لیکن جماعت باقی رہتی ہے۔

10 . علماء بھار کی ذمہ داری اور آخری اپیل : ہم آپ کے پاؤں میں اپنی ٹوپی اور پگڑی رکھنے ، آپ کی خوشامد کرنے اور پیر پکڑنے آئے ہیں، کیونکہ بہار کا آدمی تیار ہو جائے تو صرف بہار نہیں، پورے ملک کی تقدیر بدل جائے گی۔

حال ہی میں ایک مولوی صاحب نے بہار کے بارے میں نازیبا کلمات کہے ، جس سے مجھے سخت تکلیف ہوئی۔ بہار کے لوگوں میں وہ خصوصیات ہیں جو پورے ملک میں نہیں۔ اگر یہاں کے لوگ تیار ہو جائیں تو ہم ان سے ملک کے بے آب و گیاہ علاقوں میں بھی کام لے سکتے ہیں۔

ہم سے کچھ نہیں ہو گا ، سب کچھ آپ ہی سے ہو گا۔ صلاحیتوں سے نہیں، جذبے سے کام ہوتا ہے۔ اس لئے ملت کی تعمیر کا جذبہ لے کر یہاں سے نکلیں اور اللہ سے مدد مانگیں کہ وہ ہم سے کام لے لے۔ اللہ آپ سے ضرور کام لے گا، ان شاء اللہ ۔ و آخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمین

Scroll to Top